مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ مصطفیٰ محمد نجار کل پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچے جہاں پاکستانی وزير داخلہ رحمن ملک نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد دونوں وزراء داخلہ کے درمیان مذاکرات کا دور شروع ہوا ان مذاکرات میں دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔ ایرانی وزیر داخلہ مصطفیٰ محمد نجار نے کہا ہے کہ گزشتہ اتوار کو ایران میں ہونے والے خود کش حملہ میں جُنداللہ ملوث ہے اور پاکستان میں اس دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی کے ثبوت پاکستان کو پیش کردیئۓ گئے ہیں پاکستان نے جنداللہ دہشت گرد نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے ایران کے ساتھ بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایرانی وزير داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستانی حکومت دہشت گردوں کی حمایت کررہی ہے بلکہ حکومت سے وابستہ بعض اہلکار ان دہشت گردوں کی سرپرستی کررہے ہیں اور اس کے شواہد ایران نے پاکستان کے حوالے کردیئے ہیں
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم پاکستان سےیہ درخواست کررہے ہیں کہ پاکستانی عمائدین اور دوست یہ مسئلہ حل کریں۔ اور خدا کرے کہ بہت جلد ہو۔ اور ہم اِن سے کہیں گے کہ جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو ہمارے حوالے کریں تاکہ یہ تنازعہ طے ہوجائے کیونکہ یہ تنازعہ دونوں اسلامی ممالک کے تعلقات کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔‘
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جُند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کے چھوٹے بھائی کو گرفتار کر کے پاکستان پہلے ہی ایران کے حوالے کر چکا ہے۔ جبکہ ان کے مطابق جنداللہ کے سربراہ عبد المالک ریگی افغانستان میں موجود ہیں اور اس بارے میں وہ ایرانی ہم منصب کو ثبوت فراہم کردیں گے۔
رحمان ملک نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر ان دہشت گردوں کے خلاف ایک مشترکہ ٹاسک فورس بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ ان دہشت گردوں کو اس خطے سے بھگا دیں تاکہ آئندہ کہیں بھی وہ ایسی کارروائی نہ کرسکیں۔اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ آج وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کریں گے۔
آپ کا تبصرہ